لائیوسٹاک، ڈیری پولٹری کانفرنس اور چند گزارشات معذرت کے ساتھ

Livestock Dairy Expo

 اور چند گزارشات معذرت کے ساتھILDPC 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر مزمل شاہ، ڈاکٹرخالد محمود شوق، ڈاکٹر خالد خاں،اور ان کے ساتھی ؛ کتنی محنت سے انٹرنیشنل لائیوسٹاک ، ڈیری اینڈ پولٹری کانگریس کا انعقاد کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ڈاکٹر محمد ارشد اور ڈاکٹر خالد محمود شوق گزشتہ کئی برسوں سے اس روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔ یقیناََ داد کے مستحق ہیں۔ مگر افسوس کہ اس قدر محنت اور ذاتی کاوشوں کے باوجود اس کانگریس کو انٹرنیشنل کہنا لفظ International کو توہین ہے ، دوسری جانب رہی بات پولٹری کی تو اس سے کانگریس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں، جہاں تک ڈیری کا سوال ہے تو اس سیکٹر کے بنیادی سٹیک ہالڈرز ہیں چھوٹا فارمر، کمرشل فارمر اور کارپوریٹ سیکٹر اور ان میں سے کسی کی بھی قابلِ ذکر شمولیت نظر نہیں آتی۔ یہ سالانہ تقریب محض ایک میلا ہے جس میں زیادہ تر ادویات بیچنے والی کمپنیاں ،سرکاری محکمہ کے ساتھ کام کرنے والی ایک دو دوسرے شعبوں کی کمپنیاں ، بڑی تعداد میں سٹوڈنٹس، پاکستان کے چند ویٹرنری ڈاکٹر زاور بڑی تعداد میں ویٹرنری اسسٹنٹ شرکت کرتے ہیں۔
اس بہترین سرگرمی ۔۔۔ جسے ہر حال میں جاری رہنا چاہئے ۔۔۔ کو پاکستان کی سب سے بڑی بین الاقوامی معیار کی کانفرنس یا ایکسپو بنایا جا سکتا ہے مگر اس کے لئے مقاصد اور نیتوں کے ساتھ ساتھ رویوں میں تبدیلی درکار ہے۔بہتری کے لئے چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔
کانگریس کے انتظامی امور میں پیش پیش مٹھی بھر افراد یا تو دوستیاں نبھا رہے ہوتے ہیں یا ان کی تقریب سے جذباتی وابستگی ہوتی ہے یا پھر چند جگہوں پر ذاتی مقاصد کا عمل دخل ہوتا ہے یا کچھ خوف اور ڈر کے باعث منتظمین کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں۔ بہت ضروری ہے کہ کانگریس کے انعقاد کے لئے آٹھ ماہ قبل انتظامی کمیٹیاں تشکیل دے دی جائیں۔ ان کمیٹیوں کے ارکان میں ذاتی پسند اور نا پسند سے بالا تر ہوتے ہوئے پاکستان بھر سے ویٹرنری ڈاکٹرز کو اس طرح شامل کیا جائے کہ سرکاری، غیر سرکاری، ڈیری ، پولٹری ، پیٹس، ایکوائنز سمیت تمام ویٹرنری شعبوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی نمائندگی بھی ہو جائے۔ خصوصی طور اس سلسلے میں ان لوگوں کو اعتماد میں لیکر آگے لایا جائے جو کسی طرح سے آپ کو پسند نہیں کرتے یا آپ ان کو پسند نہیں کرتے تاکہ یہ کانگریس ایک، دو ، تین اشخاص سے منسوب ہونے کی بجائے ایک پروفیشنل تقریب کی شکل اختیار کر جائے گی۔زور اس بات پر لگایا جائے کہ نوجوان ویٹرنری ڈاکٹرز ان کمیٹیوں میں فرنٹ لائن پر کام کریں۔
ایکسپو کے چیف آرگنائزر کے لئے ہر سال کوئی نیا چہرہ سامنے لایا جائے اور اس سلسلے میں کوشش کی جائے کہ باری باری ہر شعبہ کے لوگوں کی نمائندگی ہوتی رہے۔ اس ضمن میں دوسرے صوبوں کے دوستوں کو بھی موقع دیا جائے۔
اگر ممکن ہو تو تقریب کے نام کی تبدیلی کے لئے بھی غور کر لیا جائے تاکہ اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکے۔ مثال کے طور پر انٹرنیشنل ویٹرنری کانفرنس یا انٹرنیشنل ویٹرنری ایکسپو وغیرہ ۔
ایکسپو کی تشہیر کے لئے پروفیشنل نیوز پیپرز اور میگزینز کے ساتھ ساتھ نیشنل میڈیا کا سہارا لیا جائے۔ بہت ضروری ہے کہ مقررہ تاریخ سے ایک ماہ پہلے سے ہر اتوار کو کسی بھی دوبڑے اخبارات کے اہم صفحات پر کوارٹر پیچ کے اشتہارات چھپنا شروع ہو جائیں جبکہ کانگریس سے ایک دن قبل ہاف پیج اور کانگریس کے دن فل سپلیمنٹ چھاپا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ممکن ہو تو ٹیلی ویژن وگرنہ چند مخصوص علاقوں کے ا یف ایم کی خدمات ضرور حاصل کی جائیں۔ سوشل میڈیا پر تشہیر پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس کے لئے Sponsored Advertisment والی آپشن سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔
ایکسپو کی بین الاقوامی معیار کی انٹرنیشنل ویب سائٹ بنائی جائے جہاں پر تمام معلومات کے ساتھ ساتھ آن لائن رجسٹریشن اور کریڈٹ کارڈ Paymentکی سہولت بھی موجود ہو۔
ایکسپو کی ممبر شپ کے لئے کوئی جبری حربہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ نوجوان ویٹرنری ڈاکٹرز کو اعتماد میں لیکر ان کے ذمہ یہ کام سونپا جائے۔ سرکاری افسران اور پرائیویٹ سیکٹر میں خدمات سر انجام دیتے یہ نوجوان ڈاکٹرز اپنے اپنے حلقہ احباب میں موجود ویٹرنری ڈاکٹرز، ویٹرنری اسسٹنٹس کے ساتھ ساتھ اپنے فارمرز اور کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندگان کو رجسٹریشن کے لئے موٹیویٹ کریں۔
سٹالز کی بکنگ کے لئے محض دوا ساز کمپنیوںیا سرکاری محکمہ کے قریب رہنے والی کمپنیوں تک محدود رنہ رہا جائے بلکہ اس کے لئے مختلف شعبوں کے نمائندگان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو اپنے اپنے شعبہ سے متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کو Approach کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے پیغام کے پھیلاؤ کے لئے ان تمام اداروں ، تنظیموں، کمپنیوں اور منصوبہ جات تک پہنچا جائے جن کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ ڈیری ، پولٹری ،میٹ، پیٹس اور ایکوائنز یا ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے دیگر شعبہ جات سے ہو۔
کاروپوریٹ پولٹری اور ڈیری سیکٹر اور انٹرنشینل پروجیکٹس کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان کا تعاون ضرور حاصل کیا جائے۔
بڑے پولٹری فارمز، ڈیری فارمز، میٹ فارمز ، سٹڈ فارمز،پیٹس لورز اور لائیوسٹاک پروڈکٹس پروسیسرز تک پہنچا جائے اور ان کو خصوصی دعوت نامے پہنچائے جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی کی نمائندہ تنظیموں جیسے ڈاکٹرز، انجینئرز، صحافی، سوشل ورکرز کو بھی مدعو کیا جائے۔
ہر ایرے غیرے کو شیلڈز دینے کی بجائے نیشنل ویٹرنری ایوارڈز کا اعلان کیا جائے ۔ ایوارڈ کمیٹی کو ویٹرنری پروفیشنلز اپنے کام کے بارے میں بتائیں اور یہ کمیٹی میرٹ کی بنیاد پر ایوارڈ زدنے کا فیصلہ کرے ۔ اس سلسلے میں مختلف Categories بنائی جا سکتی ہیں۔ اس عمل سے دیئے جانے والے ایوارڈ کی وقعت ہو گی۔
ٹیکنیکل سیشنز کو بالکل ختم کر دیا جائے کیونکہ ہال بھرنے کے لئے لوگوں کی منتیں کی جاتی ہیں اور گزشتہ دو سالوں سے تو ایک پرائیویٹ ویٹرنری کالج کے طلباء و طالبات سے ہال کو بھر وا کر معاملات چلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ گزارش یہ ہے کہ افتتاحی تقریب کے بعد نمائش کو کھول دیا جائے ۔بزنس ٹو بزنس میٹنگ کارنر کے ساتھ ساتھ ایک دو ہال مخصوص کر دیے جائیں جہاں انفرادی طور پر کوئی کمپنی یا کوئی شخص اپنی activity کر سکے ۔
کانگریس کی میڈیا کوریج کے لئے کسی بین الاقوامی معیار کی نیوز ایجنسی کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ کانگریس کی سرگرمیاں پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی پھیل سکیں اور ایک دو سال میں یہ حقیقی معنوں میں انٹر نیشنل کانگریس کا درجہ حاصل کر لے۔
سب سے بڑھ کر چونکہ کانگریس کی منتظم پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن ہے۔لہٰذا اس تقریب کی بہتری کے لئے پی وی ایم اے کا فعال ہونا بہت ضروری ہے اور پی وی ایم اے کے فعال ہونے کے لئے نوجوان ویٹرنری ڈاکٹرز کے فعال ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان قیادت کا سامنے آنا بہت ضروری ہے اور نوجوان قیادت کے سامنے آمنے کے لئے ایسوسی ایشن کے خصوصاََ پنجاب میں ڈرامے بازی والے نہیں بلکہ صحیح معنوں میں الیکشن کا انعقاد بہت ضروری ہے ۔
اگرذاتی مفادات سے بالا تر ہوتے ہوئے کانفرنس یا کانگریس کے انعقا د کے لئے قابل عمل تجاویز کو زیرِ غور نہ لایا گیا تو وقت کے ساتھ ساتھ لوگ خصوصاََ محنتی اور پریکٹیکل نوجوان ویٹرنری ڈاکٹرز متنفر ہوتے جائیں گے اور تقریب کی وقعت کم ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی۔